Thursday, April 11, 2019

بلوچستان میں سچے عاشقوں کی داستان شیریں اور فرہاد جو ہزاروں سال پہلے ایک دوسرے کے محبت گرفتار ہونے والے آج تک ایک ہی قبر میں مدفون ہیں

شیرین فرہاد
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے تقریباً 30 کلومیٹر کی دوری پرضلع آواران کے  تحصیل جھاو میں واقع یہ مزار شیرین فرہاد کے نام سے منسوب ہے۔تلاش معاش میں ادھر کا رخ کیا تو اس زیارت کی دیدار کا شرف بھی حاصل ہوا۔
ویسے کہانیوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایران کا بادشاہ خسرو تھا اور شیرین خسرو کی بیوی تھی۔فرہاد ایک غریب جوان تھا جو شیرین کو دل دے بیٹھا۔خسرو نے فرہاد کے لئے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ پہاڑ سے دودھ کا نہر نکالے تو وہ شیرین کو اس کے حوالہ کرے گا۔اورخسرو کو پتہ تھا کہ یہ ایک نا ممکن کام ہے۔لیکن فرہاد شیرین کے عشق میں اندھا تھا اس نے جب پہاڑ کو کھودنا شروع کیا تو دودھ بھی ساتھ ساتھ نکلتا رہا۔جب یہ بات خسرو تک پہنچی تو اس نے فرہاد کو جان سے مار دیا اور فرہاد کی لاش دیکھ کر شیرین بھی فوت ہوگئی۔
قارئین اب میں آپ کو بلوچستان کے شیرین فرہاد کے لازوال عشق کی داستان سناتا ہوں جو مجھے ایک مقامی بزرگ نے سنائی ہے اور یہ بزرگ عموماً اسی مقبرہ پر موجود بھی رہتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ان بزرگ کے بقول شیرین لسبیلہ کے نواب کی بیٹی تھی اور انتہائی شان و شوکت سے زندگی گزار رہی تھی۔جبکہ فرہاد  ایک غریب مزدور کا بیٹا تھا اور نواب کے گھر میں نوکر تھا۔اس نے جب شیرین کو دیکھا تو ان پر فریفتہ ہوگیا جبکہ دوسری طرف شیرین بھی فرہاد کے عشق میں دیوانی ہوگئی۔جب بیلہ کے نواب کو اپنی بیٹی کی محبت کا علم ہوا تو اس نے فرہاد کو اپنے گھر نوکری سے نکال دیا مگر اس سے آگ اور بھی زیادہ بھڑکا ۔اب نواب نے فرہاد کو جان سے مارنے کی پلاننگ بنا لی لیکن مشیروں نے شیرین کی حالت دیکھ کر یہ مشورہ دیا کہ فرہاد کے سامنے کوئی ایسی شرط رکھ لو جو اس کو پورا نہیں کرسکتا ہو۔اس طرح وہ شیرین سے دور ہوجائےگا اور عزت بھی باقی رہے گی۔قارئین گرامی بزرگ نے (یہ پہاڑ جو میں نے اپلوڈ کر دیا ہے).  کو جبل شیرین بتایا اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ اس کے لسبیلہ کے مخالف سمت میں ایک ٹھنڈے پانی کا چشمہ تھا اور بادشاہ نے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ اس پانی کو لسبیلہ کی طرف لانے میں کامیاب ہوا تو وہ شیرین کو ان کے حوالہ کرے گا۔اور یہ بھی یاد رہے کہ شیر( sheer)بلوچی میں دودھ اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔اس نسبت سے شیرین بن گئی اصل نام کچھ اور تھا بقول بزرگ کے۔
قصہ المختصر فرہاد نے شرط قبول کر لی اور اپنے کام میں مگن ہوگیا۔اور دن رات ایک کرکے کام کرتا رہا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ فرہاد تو کھدائی کر کے پانی لسبیلہ کی طرف پہنچانے والے ہیں لوگوں نے اس کی خبر فوراً نواب کو پہنچادی۔یہ بات سن کے وہ سخت پریشان ہوا اور بیمار پڑگیا۔نواب کے نوکروں میں ایک بوڑھی عورت تھی جس نے یہ زمہ داری اٹھائی کہ وہ فرہاد کے اس مشن کو ناکام بنائےگی۔بوڑھی عورت ھانپتی کانپتی فرہاد کے پاس پہنچ گئی اور کہنے لگی شیرین کب سے مر چکی ہے اور تو ادھر ان کے عشق میں پہاڑ کھود رہا ہے آجاو میرے ساتھ میں تمہیں ان کا قبر دکھاتی ہوں۔اس بات کا سننا تھا کہ فرہاد نے گینتی کے تیز دھار سے اپنے پیشانی پر وار کیا اور اپنی جان دے دی۔دوسری روایت یہ ہے کہ بوڑھی عورت نے فرہاد کے کھدائی والی جگہ پر سخت پتھر یا لوہا رکھا تھا جس سے ٹکرا کر گینتی فرہاد کے پیشانی میں پیوست ہوگیا اور وہ فوت ہوگیا۔فرھاد کے موت کی خبر لے کر بوڑھی عورت نواب کے گھر پہنچی تو شیرین دیونہ وار بھاگتی ہوئی اس مقام پر پہنچی جہان فرہاد کی موت واقع ہوئی تھی۔فرہاد کی لاش دیکھنے کے بعد شیرین نے اسی گینتی سے اپنی جان لےلی اور محبت کا یہ لازوال داستان ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ شیرین کو جب فرہاد کی موت کا پتہ چلا تو اس پر دل کا دورہ پڑا اور وہ شدت غم سے جانبر نہ ہو سکی۔
قارین گرامی کہتے ہیں کہ شیرین کو لسبیلہ میں دفنایا گیا تھا جبکہ فرہاد کو اسی مقام پر دفنایا گیا جدھر اب یہ مزار موجود ہے۔صبع اٹھ کے جب لوگوں نے شیرن کے قبر کو شق اورلاش کو غائب دیکھا اور فوراًفرہاد کے قبر پر آگئے تو وہ بھی شق ہوا تھا اور دونوں لاشیں فرہاد کے قبر میں موجود تھیں ۔لوگوں نے شیرین کی لاش نکال کر لسبیلہ لے گیا لیکن دوسرے دن ہھر سے قبر کو شق پایا اور لاش فرہاد کے قبر میں ملی۔تب لوگوں نے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفنا دیا ۔ اب بھی قبر کے سریانے دو کتبے لگے ہوئے ہیں جس سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں دو لوگ دفن ہیں۔
اور قبر کے سرہانے سنگ مرمر کے کتبے پر بلوچی زبان میں کچھ عبارات درج ہیں اور غالباًیہ کوئی اشعار ہیں لیکن بدقسمتی سے میںLasi  بلوچی زبان سے نابلد ہوں اور میرا بزرگ گائیڈ بھی ناخواندہ تھا اور وہ بھی اس کو نہیں پڑھ سکتا تھا۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تصویر اچھی ہو اور تصویر میں کندہ حروف نظر آرہے ہیں اگر کسی دوست کو ان کا مطلب معلوم ہو تو وہ براہ کرم رہنمائی فرمادے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس وقت جھاو اور لسبیلہ کے درمیان راستہ نہیں تھا اور نواب نے فرہاد کو راستہ بنانے کی شرط رکھ لی اور اس مزار والے مقام پر پہنچ کر درج بالا واقعہ پیش آیا ۔چونکہ مزار بلکل روڑ کے ساتھ واقع ہے اس لئے یہ سچ بھی ہو سکتا ہے۔
جو میں نے سنا آپ سے بیان کردیا اگر کوئی کوتاہی غلطی ہو تو تصحیع فرمالے مہربانی۔

No comments:

Post a Comment