Friday, April 12, 2019

جرنل پرویز مشرف پاکستان کا واحد فور ستار جرنل رہے جس نے اپنے دور میں چار لڑیں

پرویز مشرف غالباً پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 65 کی جنگ میں مشرف سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر اگلے مورچے پر لڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے کیمپ میں اکیلا رہ گیا تھا، دشمن کی توپوں کے گولے اور فائرنگ مسلسل ہورہی تھی لیکن مشرف نے اپنا کیمپ نہ چھوڑا اور مقابلہ کرتا رہا تاکہ بھارتی فوجوں کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج نہیں رہی ورنہ شاید 65 کی جنگ کا نتیجہ ہمارے لئے کافی پریشان کن ہوتا۔ اس وقت مشرف کو گولیاں بھی لگیں اور توپ کے گولوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ذخمی بھی ہوا۔

مشرف کو اس کی اس بہادری پر امتیازی تمغہ بھی ملا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اسے سپیشل فورس سکول میں بھیجا گیا جہاں سے وہ سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو ٹریننگ حاصل کرکے نکلا۔

مشرف نے 71 کی جنگ میں بھی پلاننگ کی حد تک حصہ لیا اور لیکن اس کی ڈھاکہ روانگی سے چند گھنٹے قبل معاملہ ختم ہوچکا تھا۔

80 کی دہائی میں جنرل ضیا کو سیاچن کیلئے ایک سخت جان کمانڈر کی ضرورت پڑی تو اس کا انتخاب مشرف ہی ٹھہرا۔ مشرف کو درس و تدریس کا شوق تھا جس کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائی میں مشرف نے پہلے خود پولیٹیکل سائنس پڑھی اور بعد میں ملٹری نوجوانوں کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ' جنگی حکمت عملی ' بھی پڑھائی۔

2001 میں امریکہ کی طرف سے افغان جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا جس کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مشرف کو کال ملائی اور جنگ میں مدد کرنے کی درخواست کی جو کہ مشرف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قبول کرلی۔ کہتے ہیں کہ مشرف کی فوری آمادگی سے امریکی وزیرخارجہ اتنا حیران اور خوش ہوا کہ اس نے صدر بش کو آدھی رات کے وقت سوئے ہوئے جگا کر یہ خوشی کی خبر سنائی۔

دوسری طرف پاکستان میں اس وقت نوازشریف کے تنخواہ دار کالم نویس بشمول عرفان صدیقی اور چند دوسرے لفافہ صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے مشرف کو ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے یاد کرنا شروع کردیا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس وقت ان کالم نویسوں کی باتوں کو سچ جانتے ہوئے مشرف کو بزدل کمانڈر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔

اب آجائیں 2001 میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی ' مشرف ' کو کی گئی کال کے اصل احوال پر۔

جب کولن پاول نے مشرف کو کال کرکے افغان وار میں شمولیت کا کہا تو اس وقت مشرف ایک ہاتھ میں سگار تھامے اور سامنے کافی کا کپ رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹیبل پر ' سٹریٹیجی آن وار فئیرز ' کی کتابیں رکھی تھیں اور دماغ میں مستقبل کا نقشہ ترتیب پارہا تھا۔

کولن پاول کو آپ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ سمجھ لیں، باوجود اس کے کہ وہ ملٹری امور میں بھی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا لیکن وہ مشرف کی اس فوراً ' ہاں ' کا بیک گراؤنڈ نہ سمجھ سکا اور افغان وار شروع کردی۔

میرے ذاتی تجزئے کے مطابق امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر لانے والا پرویز مشرف تھا۔ طبیعت کے اعتبار سے مشرف ایم مہم جو انسان ہے، اس کے ذہن میں گوریلا وار کا پورا نقشہ ترتیب پاچکا تھا اور اسے لگا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا کر رکھ سکتا ہے، قدرت ایسے مواقع صدیوں بعد دیتی ہے، چنانچہ مشرف نے بھی اسی ایسا ہی موقع جانا اور اپنا داؤ کھیل دیا۔

آج افغان وار شروع ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر اس جنگ میں 900 بلین ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اگر تمام اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ تخمینہ ہولناک طور پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے اور اس سے بھی بڑا نقصان ' ریپوٹیشن ڈیمیج ' کی صورت میں ہوا کہ افغانیوں جیسے تباہ حال اور پتھروں کے دور میں رہنے والوں سے ابھی تک امریکہ جنگ نہ جیت سکا۔

مشرف کی حکمت عملی کی وجہ سے طالبان جس طرح امریکی راڈارز سے غائب ہو کر منظم ہونا شروع ہوئے، اس سے امریکہ بوکھلا کر رہ گیا۔ امریکہ کے پاس وسائل موجود تھے لیکن ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی، مشرف نے امریکہ کو اپنی ذہانت سے افغانستان میں پھنسا دیا اور اب وہ جو مرضی کرلے، یہاں سے نکل نہیں سکتا۔

آپ افغانستان کو امریکہ کا ' نوازشریف ' سمجھ لیں، جو ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کھارہا ہے اور امریکہ کچھ نہیں کرسکتا۔

اگر آج ٹرمپ پاکستان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دیتا ہے تو یاد رکھیں، یہ سوائے دھمکی کے اور کچھ نہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنا سب کچھ کھوچکا جبکہ پاکستان کیلئے ابھی بھی پانے کیلئے بہت کچھ باقی ہے۔

اگر کسی کو شک ہو تو جنرل باجوہ کی امریکیوں کے ساتھ جاری کردی کل کی تصویر ملاحظہ کرلیں۔ جنرل باجوہ سر پر ٹوپی رکھے بغیر، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اپنی پشت کرسی سے لگائے انتہائی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ امریکی مہمان کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تصویر پینٹاگون نے بھی دیکھی ہے اور اب وہ ایک مرتبہ پھر اپنا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ٹرمپ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف بھی کرے گا اور اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔

میں نے پوسٹ کے آغاز میں لکھا تھا کہ مشرف وہ واحد جرنیل ہے جس نے تمام جنگوں میں حصہ لیا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان میں 65، 71، سیاچن، روس کے خلاف افغان وار اور کارگل کی جنگیں شامل ہیں۔

ان میں امریکی افغان وار بھی شامل کرلیں۔ مشرف یہ جنگ افغانستان کی طرف سے امریکہ کے خلاف لڑا اور اکیلا ہی اس پر بھاری پڑ گیا

Thursday, April 11, 2019

بلوچستان میں سچے عاشقوں کی داستان شیریں اور فرہاد جو ہزاروں سال پہلے ایک دوسرے کے محبت گرفتار ہونے والے آج تک ایک ہی قبر میں مدفون ہیں

شیرین فرہاد
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے تقریباً 30 کلومیٹر کی دوری پرضلع آواران کے  تحصیل جھاو میں واقع یہ مزار شیرین فرہاد کے نام سے منسوب ہے۔تلاش معاش میں ادھر کا رخ کیا تو اس زیارت کی دیدار کا شرف بھی حاصل ہوا۔
ویسے کہانیوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایران کا بادشاہ خسرو تھا اور شیرین خسرو کی بیوی تھی۔فرہاد ایک غریب جوان تھا جو شیرین کو دل دے بیٹھا۔خسرو نے فرہاد کے لئے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ پہاڑ سے دودھ کا نہر نکالے تو وہ شیرین کو اس کے حوالہ کرے گا۔اورخسرو کو پتہ تھا کہ یہ ایک نا ممکن کام ہے۔لیکن فرہاد شیرین کے عشق میں اندھا تھا اس نے جب پہاڑ کو کھودنا شروع کیا تو دودھ بھی ساتھ ساتھ نکلتا رہا۔جب یہ بات خسرو تک پہنچی تو اس نے فرہاد کو جان سے مار دیا اور فرہاد کی لاش دیکھ کر شیرین بھی فوت ہوگئی۔
قارئین اب میں آپ کو بلوچستان کے شیرین فرہاد کے لازوال عشق کی داستان سناتا ہوں جو مجھے ایک مقامی بزرگ نے سنائی ہے اور یہ بزرگ عموماً اسی مقبرہ پر موجود بھی رہتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ان بزرگ کے بقول شیرین لسبیلہ کے نواب کی بیٹی تھی اور انتہائی شان و شوکت سے زندگی گزار رہی تھی۔جبکہ فرہاد  ایک غریب مزدور کا بیٹا تھا اور نواب کے گھر میں نوکر تھا۔اس نے جب شیرین کو دیکھا تو ان پر فریفتہ ہوگیا جبکہ دوسری طرف شیرین بھی فرہاد کے عشق میں دیوانی ہوگئی۔جب بیلہ کے نواب کو اپنی بیٹی کی محبت کا علم ہوا تو اس نے فرہاد کو اپنے گھر نوکری سے نکال دیا مگر اس سے آگ اور بھی زیادہ بھڑکا ۔اب نواب نے فرہاد کو جان سے مارنے کی پلاننگ بنا لی لیکن مشیروں نے شیرین کی حالت دیکھ کر یہ مشورہ دیا کہ فرہاد کے سامنے کوئی ایسی شرط رکھ لو جو اس کو پورا نہیں کرسکتا ہو۔اس طرح وہ شیرین سے دور ہوجائےگا اور عزت بھی باقی رہے گی۔قارئین گرامی بزرگ نے (یہ پہاڑ جو میں نے اپلوڈ کر دیا ہے).  کو جبل شیرین بتایا اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ اس کے لسبیلہ کے مخالف سمت میں ایک ٹھنڈے پانی کا چشمہ تھا اور بادشاہ نے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ اس پانی کو لسبیلہ کی طرف لانے میں کامیاب ہوا تو وہ شیرین کو ان کے حوالہ کرے گا۔اور یہ بھی یاد رہے کہ شیر( sheer)بلوچی میں دودھ اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔اس نسبت سے شیرین بن گئی اصل نام کچھ اور تھا بقول بزرگ کے۔
قصہ المختصر فرہاد نے شرط قبول کر لی اور اپنے کام میں مگن ہوگیا۔اور دن رات ایک کرکے کام کرتا رہا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ فرہاد تو کھدائی کر کے پانی لسبیلہ کی طرف پہنچانے والے ہیں لوگوں نے اس کی خبر فوراً نواب کو پہنچادی۔یہ بات سن کے وہ سخت پریشان ہوا اور بیمار پڑگیا۔نواب کے نوکروں میں ایک بوڑھی عورت تھی جس نے یہ زمہ داری اٹھائی کہ وہ فرہاد کے اس مشن کو ناکام بنائےگی۔بوڑھی عورت ھانپتی کانپتی فرہاد کے پاس پہنچ گئی اور کہنے لگی شیرین کب سے مر چکی ہے اور تو ادھر ان کے عشق میں پہاڑ کھود رہا ہے آجاو میرے ساتھ میں تمہیں ان کا قبر دکھاتی ہوں۔اس بات کا سننا تھا کہ فرہاد نے گینتی کے تیز دھار سے اپنے پیشانی پر وار کیا اور اپنی جان دے دی۔دوسری روایت یہ ہے کہ بوڑھی عورت نے فرہاد کے کھدائی والی جگہ پر سخت پتھر یا لوہا رکھا تھا جس سے ٹکرا کر گینتی فرہاد کے پیشانی میں پیوست ہوگیا اور وہ فوت ہوگیا۔فرھاد کے موت کی خبر لے کر بوڑھی عورت نواب کے گھر پہنچی تو شیرین دیونہ وار بھاگتی ہوئی اس مقام پر پہنچی جہان فرہاد کی موت واقع ہوئی تھی۔فرہاد کی لاش دیکھنے کے بعد شیرین نے اسی گینتی سے اپنی جان لےلی اور محبت کا یہ لازوال داستان ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ شیرین کو جب فرہاد کی موت کا پتہ چلا تو اس پر دل کا دورہ پڑا اور وہ شدت غم سے جانبر نہ ہو سکی۔
قارین گرامی کہتے ہیں کہ شیرین کو لسبیلہ میں دفنایا گیا تھا جبکہ فرہاد کو اسی مقام پر دفنایا گیا جدھر اب یہ مزار موجود ہے۔صبع اٹھ کے جب لوگوں نے شیرن کے قبر کو شق اورلاش کو غائب دیکھا اور فوراًفرہاد کے قبر پر آگئے تو وہ بھی شق ہوا تھا اور دونوں لاشیں فرہاد کے قبر میں موجود تھیں ۔لوگوں نے شیرین کی لاش نکال کر لسبیلہ لے گیا لیکن دوسرے دن ہھر سے قبر کو شق پایا اور لاش فرہاد کے قبر میں ملی۔تب لوگوں نے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفنا دیا ۔ اب بھی قبر کے سریانے دو کتبے لگے ہوئے ہیں جس سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں دو لوگ دفن ہیں۔
اور قبر کے سرہانے سنگ مرمر کے کتبے پر بلوچی زبان میں کچھ عبارات درج ہیں اور غالباًیہ کوئی اشعار ہیں لیکن بدقسمتی سے میںLasi  بلوچی زبان سے نابلد ہوں اور میرا بزرگ گائیڈ بھی ناخواندہ تھا اور وہ بھی اس کو نہیں پڑھ سکتا تھا۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تصویر اچھی ہو اور تصویر میں کندہ حروف نظر آرہے ہیں اگر کسی دوست کو ان کا مطلب معلوم ہو تو وہ براہ کرم رہنمائی فرمادے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس وقت جھاو اور لسبیلہ کے درمیان راستہ نہیں تھا اور نواب نے فرہاد کو راستہ بنانے کی شرط رکھ لی اور اس مزار والے مقام پر پہنچ کر درج بالا واقعہ پیش آیا ۔چونکہ مزار بلکل روڑ کے ساتھ واقع ہے اس لئے یہ سچ بھی ہو سکتا ہے۔
جو میں نے سنا آپ سے بیان کردیا اگر کوئی کوتاہی غلطی ہو تو تصحیع فرمالے مہربانی۔