Tuesday, May 28, 2019

عراق کے اول بادشاہ کی خواب کی داستان اور دریائے دجلہ کا رخ تبدیل ہونے کا اہم واقعہ

عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں۔ دریا کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔ پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔“

عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دئیے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔

تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم ”نوری السعید پاشا‘ ‘ کو دکھائی دیا۔ انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا: ”یہ خواب تو میں بھی دوبار دیکھ چکا ہوں“

اب انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔

مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے نعشوں کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کردیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کردئیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عیدقربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔

اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی۔ اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے اڑی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے۔ تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ اسی طرح حجاز‘ مصر‘ شام ‘ لبنان‘ فلسطین‘ ترکی‘ ایران‘ بلغاریہ‘ روس‘ ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں‘ مہربانی فرما کر مقررہ تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے۔

چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔

آخر کار وہ دن بھی آگیا جب قبروں کو کھولنا تھا‘ دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے۔ پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔

تمام ممالک کے سفیروں‘ عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کی نعش کرین پر رکھے گئے سٹریچر پر خودبخود آگئی۔ اب کرین سے سٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل‘ مفتی اعظم‘ وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عہد مصر نے سٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا۔پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش کو نکالا گیا۔ دونوں نعشوں کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ نعشوں کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے۔بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

Saturday, May 18, 2019

قائداعظم رحمتہ اللہ کا فوجی جرنیلوں پر اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے کا فرمایا تھا

ماضی کی یادیں 
ٹرائیبل نیوز پر

اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کومشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘
(بحوالہ ’’ قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل‘‘ از قیوم نظامی)
قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا ۔
اس واقعہ کا تذکرہ کسی اور نے نہیں ایوب خان کے معتمد خاص اور ناک کے بال ،الطاف گوہر نے اپنی کتاب ’’ گوہرگزشت ‘‘ میں کیا ہے۔
اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تو وہ مہاراجہ پٹیالہ کی کسی محبوبہ پر ایسے ریجھے کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی، جس پر انھیں سزا کے طور پر ڈھاکہ بھیجا گیا۔
اپنی اس تنزلی پرایوب خان بجھ کر رہ گئے اور انھوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر (تب) شیر علی خان پٹودی سے مدد کرنے کے لئے کہا۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے یار کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔
ایوب خان پر ہی بس نہیں تھا، قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، منتخب حکومتوں کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔
بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں کہا کہ انھیں دو اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انھوں نے جو حلف اٹھایا ہے وہ اس کے مضمرات سے لاعلم ہیں ۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسروں کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا۔
قائد اعظم کے بعد اس حلف کی اتنی دفعہ خلاف ورزی ہوئی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا ’’میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

Thursday, May 2, 2019

دہشت گرد تنظیم داعش نے جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام کے قبر مبارک کو دھماکے سے اڑانے کے بعد کونسا منظر دیکھنے کو ملا آپ بھی جانیئے اس رپورٹ میں


شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک تاریخی مقبرے کے نیچے سے ایک تین ہزار سال پرانا محل دریافت ہوا ہے،شمالی عراق کے شہر موصل کی ایک پہاڑی کو نبی حضرت یونس کی پہاڑی کہا جاتا ہے۔یہ جگہ صدیوں سے عبادت کا مقام رہی ہے۔ ابتدائی مسیحی دور میں یہاں ایک خانقاہ قائم ہوئی اور پھر 600سال بعد اسے حضرت یونس کے مقبرےمیں تبدیل کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جولائی 2014 میں اس مقبرے کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے دھماکے سے اڑا دیا۔شدت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ حضرت یونس کا یہ مقبرہ عبادت گاہ نہیں
بلکہ مشرکین کا اڈہ بن گیا تھا۔اس مقبرے کی تباہی کی فوٹیج دنیا بھر میں دکھائی گئی۔ پیغام واضح تھاکہ کوئی بھی مقدس مقام دولت اسلامیہ کی شدت پسندی سے محفوظ نہیں ہے۔لیکن حضرت یونس کے مقبرے کی تباہی سے اس تاریخی پہاڑی کی کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک نیا رخ مل گیا۔ تباہی کے بعد یہ سوالات پیدا ہوئے کہ اس کی بنیادوں کی نیچے کیا دفن ہے۔ 2018 کے موسم بہار میں بی بی سی عربی کی ایک ٹیم ان گردآلود مگر شاندار سرنگوں میں گئی جو اس پہاڑی میں دریافت ہوئی تھیں۔ اس ٹیم نے فوٹوگرامیٹری تکنیک کی مدد سے وہاں موجود اشیا کی ہائی ریزولوشن تصاویر اتاریں اور جاننے کی کوشش کی کہ اس تباہی کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کی حقیقت کیا ہے۔حضرت یونس کا نام قرآن اور عبرانی انجیل دونوں میں ملتا ہے۔ ان دونوںکتابوں کے مطابق حضرت یونس نے نینوا کا سفر کیا جو کہ اشوریہ سلطنت کا دارالحکومت تھا۔حضرت یونس کے اس سفر کا مقصد نینوا کے شہریوں کو خبردار کرنا تھا کہ اگر انھوں نے گناہوں سے توبہ نہ کی تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔بہت سے مسلمانوں کو یقین ہے کہ حضرت یونس کی ہڈیاں اس مقام پر رکھی گئی تھیں اور بعد میں اس پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر اس وہیل مچھلی کا دانت بھی ہے جس کے پیٹ میں روایت کے مطابق حضرت یونس رہے ۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت یونس واقعی وہاں پر دفن نہیں تھے۔ درحقیقت حضرت یونس کی قبریں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بتائی جاتی ہیں۔

Friday, April 12, 2019

جرنل پرویز مشرف پاکستان کا واحد فور ستار جرنل رہے جس نے اپنے دور میں چار لڑیں

پرویز مشرف غالباً پاکستان کی تاریخ کا واحد فورسٹار جرنیل ہے جس نے اب تک لڑی جانیوالی تمام جنگوں میں شمولیت اختیار کی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ 65 کی جنگ میں مشرف سیالکوٹ اور لاہور کے محاذوں پر اگلے مورچے پر لڑا اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ اپنے کیمپ میں اکیلا رہ گیا تھا، دشمن کی توپوں کے گولے اور فائرنگ مسلسل ہورہی تھی لیکن مشرف نے اپنا کیمپ نہ چھوڑا اور مقابلہ کرتا رہا تاکہ بھارتی فوجوں کو یہ نہ لگے کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج نہیں رہی ورنہ شاید 65 کی جنگ کا نتیجہ ہمارے لئے کافی پریشان کن ہوتا۔ اس وقت مشرف کو گولیاں بھی لگیں اور توپ کے گولوں سے ہونے والی تباہی کی وجہ سے ذخمی بھی ہوا۔

مشرف کو اس کی اس بہادری پر امتیازی تمغہ بھی ملا اور اس کے کمانڈنگ آفیسر کی سفارش پر اسے سپیشل فورس سکول میں بھیجا گیا جہاں سے وہ سپیشل سروسز گروپ میں کمانڈو ٹریننگ حاصل کرکے نکلا۔

مشرف نے 71 کی جنگ میں بھی پلاننگ کی حد تک حصہ لیا اور لیکن اس کی ڈھاکہ روانگی سے چند گھنٹے قبل معاملہ ختم ہوچکا تھا۔

80 کی دہائی میں جنرل ضیا کو سیاچن کیلئے ایک سخت جان کمانڈر کی ضرورت پڑی تو اس کا انتخاب مشرف ہی ٹھہرا۔ مشرف کو درس و تدریس کا شوق تھا جس کی وجہ سے 80 اور 90 کی دہائی میں مشرف نے پہلے خود پولیٹیکل سائنس پڑھی اور بعد میں ملٹری نوجوانوں کو بطور اسسٹنٹ پروفیسر ' جنگی حکمت عملی ' بھی پڑھائی۔

2001 میں امریکہ کی طرف سے افغان جنگ شروع کرنے کا اعلان ہوا جس کیلئے پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مشرف کو کال ملائی اور جنگ میں مدد کرنے کی درخواست کی جو کہ مشرف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر قبول کرلی۔ کہتے ہیں کہ مشرف کی فوری آمادگی سے امریکی وزیرخارجہ اتنا حیران اور خوش ہوا کہ اس نے صدر بش کو آدھی رات کے وقت سوئے ہوئے جگا کر یہ خوشی کی خبر سنائی۔

دوسری طرف پاکستان میں اس وقت نوازشریف کے تنخواہ دار کالم نویس بشمول عرفان صدیقی اور چند دوسرے لفافہ صحافیوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ انہوں نے مشرف کو ایک کال پر لیٹ جانے والا بزدل کمانڈو جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے یاد کرنا شروع کردیا اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی اس وقت ان کالم نویسوں کی باتوں کو سچ جانتے ہوئے مشرف کو بزدل کمانڈر سمجھنا شروع ہوگیا تھا۔

اب آجائیں 2001 میں امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کی ' مشرف ' کو کی گئی کال کے اصل احوال پر۔

جب کولن پاول نے مشرف کو کال کرکے افغان وار میں شمولیت کا کہا تو اس وقت مشرف ایک ہاتھ میں سگار تھامے اور سامنے کافی کا کپ رکھ کر بیٹھا تھا۔ اس کی ٹیبل پر ' سٹریٹیجی آن وار فئیرز ' کی کتابیں رکھی تھیں اور دماغ میں مستقبل کا نقشہ ترتیب پارہا تھا۔

کولن پاول کو آپ ایک کیرئیر ڈپلومیٹ سمجھ لیں، باوجود اس کے کہ وہ ملٹری امور میں بھی اچھی خاصی سمجھ بوجھ رکھتا ہوگا لیکن وہ مشرف کی اس فوراً ' ہاں ' کا بیک گراؤنڈ نہ سمجھ سکا اور افغان وار شروع کردی۔

میرے ذاتی تجزئے کے مطابق امریکہ کو افغانستان میں گھیر کر لانے والا پرویز مشرف تھا۔ طبیعت کے اعتبار سے مشرف ایم مہم جو انسان ہے، اس کے ذہن میں گوریلا وار کا پورا نقشہ ترتیب پاچکا تھا اور اسے لگا کہ وہ افغانستان کو امریکہ کے گلے کی ہڈی بنا کر رکھ سکتا ہے، قدرت ایسے مواقع صدیوں بعد دیتی ہے، چنانچہ مشرف نے بھی اسی ایسا ہی موقع جانا اور اپنا داؤ کھیل دیا۔

آج افغان وار شروع ہوئے 16 برس ہوچکے ہیں۔ امریکہ سرکاری طور پر اس جنگ میں 900 بلین ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ اگر تمام اخراجات شامل کئے جائیں تو یہ تخمینہ ہولناک طور پر 3 سے 5 ٹریلین ڈالرز تک جاپہنچا ہے۔ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہے اور اس سے بھی بڑا نقصان ' ریپوٹیشن ڈیمیج ' کی صورت میں ہوا کہ افغانیوں جیسے تباہ حال اور پتھروں کے دور میں رہنے والوں سے ابھی تک امریکہ جنگ نہ جیت سکا۔

مشرف کی حکمت عملی کی وجہ سے طالبان جس طرح امریکی راڈارز سے غائب ہو کر منظم ہونا شروع ہوئے، اس سے امریکہ بوکھلا کر رہ گیا۔ امریکہ کے پاس وسائل موجود تھے لیکن ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی، مشرف نے امریکہ کو اپنی ذہانت سے افغانستان میں پھنسا دیا اور اب وہ جو مرضی کرلے، یہاں سے نکل نہیں سکتا۔

آپ افغانستان کو امریکہ کا ' نوازشریف ' سمجھ لیں، جو ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر کھارہا ہے اور امریکہ کچھ نہیں کرسکتا۔

اگر آج ٹرمپ پاکستان کے خلاف کاروائی کی دھمکی دیتا ہے تو یاد رکھیں، یہ سوائے دھمکی کے اور کچھ نہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اپنا سب کچھ کھوچکا جبکہ پاکستان کیلئے ابھی بھی پانے کیلئے بہت کچھ باقی ہے۔

اگر کسی کو شک ہو تو جنرل باجوہ کی امریکیوں کے ساتھ جاری کردی کل کی تصویر ملاحظہ کرلیں۔ جنرل باجوہ سر پر ٹوپی رکھے بغیر، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اپنی پشت کرسی سے لگائے انتہائی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ امریکی مہمان کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہ تصویر پینٹاگون نے بھی دیکھی ہے اور اب وہ ایک مرتبہ پھر اپنا سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔

آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ٹرمپ پاکستان کی اہمیت کا اعتراف بھی کرے گا اور اپنی تقریر سے پیدا ہونے والے تاثر کی نفی کرنے کی بھی کوشش کرے گا۔

میں نے پوسٹ کے آغاز میں لکھا تھا کہ مشرف وہ واحد جرنیل ہے جس نے تمام جنگوں میں حصہ لیا، آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان میں 65، 71، سیاچن، روس کے خلاف افغان وار اور کارگل کی جنگیں شامل ہیں۔

ان میں امریکی افغان وار بھی شامل کرلیں۔ مشرف یہ جنگ افغانستان کی طرف سے امریکہ کے خلاف لڑا اور اکیلا ہی اس پر بھاری پڑ گیا

Thursday, April 11, 2019

بلوچستان میں سچے عاشقوں کی داستان شیریں اور فرہاد جو ہزاروں سال پہلے ایک دوسرے کے محبت گرفتار ہونے والے آج تک ایک ہی قبر میں مدفون ہیں

شیرین فرہاد
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ سے تقریباً 30 کلومیٹر کی دوری پرضلع آواران کے  تحصیل جھاو میں واقع یہ مزار شیرین فرہاد کے نام سے منسوب ہے۔تلاش معاش میں ادھر کا رخ کیا تو اس زیارت کی دیدار کا شرف بھی حاصل ہوا۔
ویسے کہانیوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایران کا بادشاہ خسرو تھا اور شیرین خسرو کی بیوی تھی۔فرہاد ایک غریب جوان تھا جو شیرین کو دل دے بیٹھا۔خسرو نے فرہاد کے لئے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ پہاڑ سے دودھ کا نہر نکالے تو وہ شیرین کو اس کے حوالہ کرے گا۔اورخسرو کو پتہ تھا کہ یہ ایک نا ممکن کام ہے۔لیکن فرہاد شیرین کے عشق میں اندھا تھا اس نے جب پہاڑ کو کھودنا شروع کیا تو دودھ بھی ساتھ ساتھ نکلتا رہا۔جب یہ بات خسرو تک پہنچی تو اس نے فرہاد کو جان سے مار دیا اور فرہاد کی لاش دیکھ کر شیرین بھی فوت ہوگئی۔
قارئین اب میں آپ کو بلوچستان کے شیرین فرہاد کے لازوال عشق کی داستان سناتا ہوں جو مجھے ایک مقامی بزرگ نے سنائی ہے اور یہ بزرگ عموماً اسی مقبرہ پر موجود بھی رہتا اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ان بزرگ کے بقول شیرین لسبیلہ کے نواب کی بیٹی تھی اور انتہائی شان و شوکت سے زندگی گزار رہی تھی۔جبکہ فرہاد  ایک غریب مزدور کا بیٹا تھا اور نواب کے گھر میں نوکر تھا۔اس نے جب شیرین کو دیکھا تو ان پر فریفتہ ہوگیا جبکہ دوسری طرف شیرین بھی فرہاد کے عشق میں دیوانی ہوگئی۔جب بیلہ کے نواب کو اپنی بیٹی کی محبت کا علم ہوا تو اس نے فرہاد کو اپنے گھر نوکری سے نکال دیا مگر اس سے آگ اور بھی زیادہ بھڑکا ۔اب نواب نے فرہاد کو جان سے مارنے کی پلاننگ بنا لی لیکن مشیروں نے شیرین کی حالت دیکھ کر یہ مشورہ دیا کہ فرہاد کے سامنے کوئی ایسی شرط رکھ لو جو اس کو پورا نہیں کرسکتا ہو۔اس طرح وہ شیرین سے دور ہوجائےگا اور عزت بھی باقی رہے گی۔قارئین گرامی بزرگ نے (یہ پہاڑ جو میں نے اپلوڈ کر دیا ہے).  کو جبل شیرین بتایا اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ اس کے لسبیلہ کے مخالف سمت میں ایک ٹھنڈے پانی کا چشمہ تھا اور بادشاہ نے یہ شرط رکھ لیا کہ اگر وہ اس پانی کو لسبیلہ کی طرف لانے میں کامیاب ہوا تو وہ شیرین کو ان کے حوالہ کرے گا۔اور یہ بھی یاد رہے کہ شیر( sheer)بلوچی میں دودھ اور ٹھنڈے پانی کو کہتے ہیں۔اس نسبت سے شیرین بن گئی اصل نام کچھ اور تھا بقول بزرگ کے۔
قصہ المختصر فرہاد نے شرط قبول کر لی اور اپنے کام میں مگن ہوگیا۔اور دن رات ایک کرکے کام کرتا رہا۔جب لوگوں نے دیکھا کہ فرہاد تو کھدائی کر کے پانی لسبیلہ کی طرف پہنچانے والے ہیں لوگوں نے اس کی خبر فوراً نواب کو پہنچادی۔یہ بات سن کے وہ سخت پریشان ہوا اور بیمار پڑگیا۔نواب کے نوکروں میں ایک بوڑھی عورت تھی جس نے یہ زمہ داری اٹھائی کہ وہ فرہاد کے اس مشن کو ناکام بنائےگی۔بوڑھی عورت ھانپتی کانپتی فرہاد کے پاس پہنچ گئی اور کہنے لگی شیرین کب سے مر چکی ہے اور تو ادھر ان کے عشق میں پہاڑ کھود رہا ہے آجاو میرے ساتھ میں تمہیں ان کا قبر دکھاتی ہوں۔اس بات کا سننا تھا کہ فرہاد نے گینتی کے تیز دھار سے اپنے پیشانی پر وار کیا اور اپنی جان دے دی۔دوسری روایت یہ ہے کہ بوڑھی عورت نے فرہاد کے کھدائی والی جگہ پر سخت پتھر یا لوہا رکھا تھا جس سے ٹکرا کر گینتی فرہاد کے پیشانی میں پیوست ہوگیا اور وہ فوت ہوگیا۔فرھاد کے موت کی خبر لے کر بوڑھی عورت نواب کے گھر پہنچی تو شیرین دیونہ وار بھاگتی ہوئی اس مقام پر پہنچی جہان فرہاد کی موت واقع ہوئی تھی۔فرہاد کی لاش دیکھنے کے بعد شیرین نے اسی گینتی سے اپنی جان لےلی اور محبت کا یہ لازوال داستان ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا۔دوسری روایت یہ ہے کہ شیرین کو جب فرہاد کی موت کا پتہ چلا تو اس پر دل کا دورہ پڑا اور وہ شدت غم سے جانبر نہ ہو سکی۔
قارین گرامی کہتے ہیں کہ شیرین کو لسبیلہ میں دفنایا گیا تھا جبکہ فرہاد کو اسی مقام پر دفنایا گیا جدھر اب یہ مزار موجود ہے۔صبع اٹھ کے جب لوگوں نے شیرن کے قبر کو شق اورلاش کو غائب دیکھا اور فوراًفرہاد کے قبر پر آگئے تو وہ بھی شق ہوا تھا اور دونوں لاشیں فرہاد کے قبر میں موجود تھیں ۔لوگوں نے شیرین کی لاش نکال کر لسبیلہ لے گیا لیکن دوسرے دن ہھر سے قبر کو شق پایا اور لاش فرہاد کے قبر میں ملی۔تب لوگوں نے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفنا دیا ۔ اب بھی قبر کے سریانے دو کتبے لگے ہوئے ہیں جس سےیہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں دو لوگ دفن ہیں۔
اور قبر کے سرہانے سنگ مرمر کے کتبے پر بلوچی زبان میں کچھ عبارات درج ہیں اور غالباًیہ کوئی اشعار ہیں لیکن بدقسمتی سے میںLasi  بلوچی زبان سے نابلد ہوں اور میرا بزرگ گائیڈ بھی ناخواندہ تھا اور وہ بھی اس کو نہیں پڑھ سکتا تھا۔
میں نے کوشش کی ہے کہ تصویر اچھی ہو اور تصویر میں کندہ حروف نظر آرہے ہیں اگر کسی دوست کو ان کا مطلب معلوم ہو تو وہ براہ کرم رہنمائی فرمادے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس وقت جھاو اور لسبیلہ کے درمیان راستہ نہیں تھا اور نواب نے فرہاد کو راستہ بنانے کی شرط رکھ لی اور اس مزار والے مقام پر پہنچ کر درج بالا واقعہ پیش آیا ۔چونکہ مزار بلکل روڑ کے ساتھ واقع ہے اس لئے یہ سچ بھی ہو سکتا ہے۔
جو میں نے سنا آپ سے بیان کردیا اگر کوئی کوتاہی غلطی ہو تو تصحیع فرمالے مہربانی۔