Monday, April 28, 2025

دجلہ فرات کا قدیم ترین شہر کا شاندار آبپاشی نظام فخر کریں یہ علاقہ انبیاءکا تھا سبحان اللہ

 تاریخ کے آئینے میں 


میسوپوٹامیا کی قدیم سرزمین میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ  ارضیات دانوں نے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے جنوبی عراق میں واقع ایریدو شہر کےگرد پھیلے پیچیدہ آبپاشی نہروں کے جال کو مکمل طور پر نقشہ بند کیا ہے،جو یہاں کی زراعت اور آبادی کے بقا کا بنیادی ذریعہ تھا۔ایریدو، جو تقریباً 5400 قبل مسیح میں آباد ہوا، تاریخ کا قدیم ترین شہر مانا جاتا ہے۔  

01: آبپاشی کا نظام: تہذیب کی بنیاد

میسوپوٹامیا،جسے تہذیب کا گہوارہ اور زرخیز ہلال(Fertile Crescent)کہا جاتا ہےاپنی زرخیزی کا زیادہ تر سہرا انہی نہری نظاموں کو دیتا ہےدریائے فرات اور اسکےمعاون دریا اس علاقے میں زراعت کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ایریدو کےباسیوں نے ان دریاوں کا پانی نہروں کے ذریعے اپنے کھیتوں تک پہنچایا،جس نے شہر کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا

02: قدیم نہری نظام کی دریافت

میسوپوٹامیاکےزیادہ تر قدیم نہری نظام یا تو قدرتی مٹی اور ریت میں دب چکے ہیں یا جدید تعمیرات کے لیے بھر دیے گئے ہیں،جس کے باعث ان کا سراغ لگانا انتہائی مشکل تھا۔تاہم،ایریدو میں حالات مختلف رہے۔یہاں کے باسیوں نے 600 قبل مسیح میں شہر اس وقت چھوڑاجب دریائے فرات کا رخ بدلنے سے پانی کی ترسیل ممکن نہ رہی۔چونکہ شہر اچانک غیر آباد ہوا،اس لیے اس کے نہری نظام کی بڑی حد تک حفاظت رہی،جو موجودہ تحقیق کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوا  

03: تحقیقی طریقہ کار اور حیران کن دریافت  

ماہرین نے اس تحقیق میں جدید ترین سائنسی طریقے اپنائے،جن میں جغرافیائی تجزیہ،تاریخی نقشوں کا جائزہ،اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی شامل تھی۔1960 کی دہائی کےسیٹلائٹ امیجز، جدید ڈرون فوٹوگرافی اور زمینی معائنہ کے ذریعے ان نہروں کا پتا لگایا گیا،جو 7,000 سال پرانی ہیں۔

تحقیق سےمعلوم ہوا کہ ایریدو کے آس پاس 200 بڑی نہریں موجود تھیں،جن کی لمبائی 8 سے 9 کلومیٹر اور چوڑائی 2 سے 5 میٹر تک تھی۔مزید برآں،تقریباً 4,000 چھوٹی نہریں ان بڑی نہروں سے جڑی ہوئی تھیں،جو انفرادی کھیتوں کو پانی فراہم کرتی تھیں۔ماہرین کے مطابق،اس نہری نظام کی پیچیدگی اور وسعت دنیا کے کسی بھی دور کے جدید آبپاشی نظام سے کم نہیں۔  

04: زراعت،معاشرت اور حکومتی تنظیم 

تحقیق کے مطابق،اس علاقے میں 700 سے زائد کھیت موجود تھے۔ زمین کی ملکیت میں نمایاں فرق تھا،جہاں کچھ مالکان کے کھیت دیگر کسانوں کے مقابلے میں 40 گنا بڑے تھے،لیکن نظام اس طرح بنایا گیا تھا کہ ہر کسان کو آبپاشی کی سہولت میسر آ سکے۔

یہ تحقیق اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ میسوپوٹامیا میں زراعت کا دارومدار نہری آبپاشی پر تھا اور اس تہذیب میں انجینئرنگ کے اعلیٰ ماہرین موجود تھے،جو وسیع اور پیچیدہ آبی منصوبے بنا سکتے تھے۔ مزید برآں،اس وقت کی حکومتیں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں کو کامیابی سے منظم اور نافذ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، جو اس وقت کے شہروں کی ترقی کے لیے ناگزیر تھے۔

ایریدو کا آبپاشی نظام مختلف ادوار میں برقرار رہا، چاہے وہ ابتدائی سمیری دور ہو یا اکادی، بابل اور کسائی تہذیبوں کا زمانہ۔ہر دور کی حکومت نے اس نظام کو برقرار رکھا،کیونکہ یہ شہر کی بقا اور معیشت کا بنیادی ستون تھا۔

05:آئندہ تحقیق اور تاریخی اہمیت 

یہ تحقیق عراق کی یونیورسٹی آف القادسیہ کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے تحت کی گئی اور حال ہی میں"Antiquity"جریدے میں شائع ہوئی۔ اب ماہرین اس آبپاشی نظام کی تعمیر کے مراحل اور اس کے ارتقا کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیق کریں گے۔ 

مزید برآں،سمیری دور کے مٹی کی تختیوں (Cuneiform Tablets) کا مطالعہ کیا جائے گا تاکہ ان تحریروں میں درج زرعی طریقوں اور آبی نظاموں کے تذکروں کو حالیہ دریافتوں سے موازنہ کیا جا سکے۔

یہ دریافت نہ صرف میسوپوٹامیا کی تاریخ بلکہ دنیا میں شہری زندگی کے آغاز اور انجینئرنگ کی ترقی کو سمجھنے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

#pakistanriverupdates #Ancientirrigationsystem #mesopotamia7thousandsoldirrigationsystem