Tuesday, May 28, 2019

عراق کے اول بادشاہ کی خواب کی داستان اور دریائے دجلہ کا رخ تبدیل ہونے کا اہم واقعہ

عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں۔ دریا کا رخ تبدیل ہورہا ہے۔ پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔“

عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دئیے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔

تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم ”نوری السعید پاشا‘ ‘ کو دکھائی دیا۔ انہوں نے اسی وقت وزیراعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا: ”یہ خواب تو میں بھی دوبار دیکھ چکا ہوں“

اب انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔

مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے نعشوں کو نکال کر دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کردیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کردئیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عیدقربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔

اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی۔ اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے اڑی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے۔ تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ اسی طرح حجاز‘ مصر‘ شام ‘ لبنان‘ فلسطین‘ ترکی‘ ایران‘ بلغاریہ‘ روس‘ ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں‘ مہربانی فرما کر مقررہ تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے۔

چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔

آخر کار وہ دن بھی آگیا جب قبروں کو کھولنا تھا‘ دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے۔ پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔

تمام ممالک کے سفیروں‘ عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان کی نعش کرین پر رکھے گئے سٹریچر پر خودبخود آگئی۔ اب کرین سے سٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل‘ مفتی اعظم‘ وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عہد مصر نے سٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا۔پھر اسی طرح حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نعش کو نکالا گیا۔ دونوں نعشوں کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ نعشوں کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے۔بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

Saturday, May 18, 2019

قائداعظم رحمتہ اللہ کا فوجی جرنیلوں پر اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے کا فرمایا تھا

ماضی کی یادیں 
ٹرائیبل نیوز پر

اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کومشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘
(بحوالہ ’’ قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل‘‘ از قیوم نظامی)
قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا ۔
اس واقعہ کا تذکرہ کسی اور نے نہیں ایوب خان کے معتمد خاص اور ناک کے بال ،الطاف گوہر نے اپنی کتاب ’’ گوہرگزشت ‘‘ میں کیا ہے۔
اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تو وہ مہاراجہ پٹیالہ کی کسی محبوبہ پر ایسے ریجھے کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی، جس پر انھیں سزا کے طور پر ڈھاکہ بھیجا گیا۔
اپنی اس تنزلی پرایوب خان بجھ کر رہ گئے اور انھوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر (تب) شیر علی خان پٹودی سے مدد کرنے کے لئے کہا۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے یار کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔
ایوب خان پر ہی بس نہیں تھا، قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، منتخب حکومتوں کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔
بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں کہا کہ انھیں دو اعلیٰ فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ انھوں نے جو حلف اٹھایا ہے وہ اس کے مضمرات سے لاعلم ہیں ۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسروں کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا۔
قائد اعظم کے بعد اس حلف کی اتنی دفعہ خلاف ورزی ہوئی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا ’’میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘

Thursday, May 2, 2019

دہشت گرد تنظیم داعش نے جلیل القدر نبی حضرت یونس علیہ السلام کے قبر مبارک کو دھماکے سے اڑانے کے بعد کونسا منظر دیکھنے کو ملا آپ بھی جانیئے اس رپورٹ میں


شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والے ایک تاریخی مقبرے کے نیچے سے ایک تین ہزار سال پرانا محل دریافت ہوا ہے،شمالی عراق کے شہر موصل کی ایک پہاڑی کو نبی حضرت یونس کی پہاڑی کہا جاتا ہے۔یہ جگہ صدیوں سے عبادت کا مقام رہی ہے۔ ابتدائی مسیحی دور میں یہاں ایک خانقاہ قائم ہوئی اور پھر 600سال بعد اسے حضرت یونس کے مقبرےمیں تبدیل کر دیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق جولائی 2014 میں اس مقبرے کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے دھماکے سے اڑا دیا۔شدت پسندوں کا دعویٰ تھا کہ حضرت یونس کا یہ مقبرہ عبادت گاہ نہیں
بلکہ مشرکین کا اڈہ بن گیا تھا۔اس مقبرے کی تباہی کی فوٹیج دنیا بھر میں دکھائی گئی۔ پیغام واضح تھاکہ کوئی بھی مقدس مقام دولت اسلامیہ کی شدت پسندی سے محفوظ نہیں ہے۔لیکن حضرت یونس کے مقبرے کی تباہی سے اس تاریخی پہاڑی کی کہانی ختم نہیں ہوئی بلکہ اسے ایک نیا رخ مل گیا۔ تباہی کے بعد یہ سوالات پیدا ہوئے کہ اس کی بنیادوں کی نیچے کیا دفن ہے۔ 2018 کے موسم بہار میں بی بی سی عربی کی ایک ٹیم ان گردآلود مگر شاندار سرنگوں میں گئی جو اس پہاڑی میں دریافت ہوئی تھیں۔ اس ٹیم نے فوٹوگرامیٹری تکنیک کی مدد سے وہاں موجود اشیا کی ہائی ریزولوشن تصاویر اتاریں اور جاننے کی کوشش کی کہ اس تباہی کے نتیجے میں سامنے آنے والے آثار کی حقیقت کیا ہے۔حضرت یونس کا نام قرآن اور عبرانی انجیل دونوں میں ملتا ہے۔ ان دونوںکتابوں کے مطابق حضرت یونس نے نینوا کا سفر کیا جو کہ اشوریہ سلطنت کا دارالحکومت تھا۔حضرت یونس کے اس سفر کا مقصد نینوا کے شہریوں کو خبردار کرنا تھا کہ اگر انھوں نے گناہوں سے توبہ نہ کی تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔بہت سے مسلمانوں کو یقین ہے کہ حضرت یونس کی ہڈیاں اس مقام پر رکھی گئی تھیں اور بعد میں اس پر مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر اس وہیل مچھلی کا دانت بھی ہے جس کے پیٹ میں روایت کے مطابق حضرت یونس رہے ۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت یونس واقعی وہاں پر دفن نہیں تھے۔ درحقیقت حضرت یونس کی قبریں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بتائی جاتی ہیں۔